الصافات   سورة  : As-Saaffaat

سورة Sura   الصافات   As-Saaffaat
وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ (77) وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ (78) سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ (79) إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (80) إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ (81) ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ (82) ۞ وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ (83) إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (84) إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ (85) أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ (86) فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (87) فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ (88) فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ (89) فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ (90) فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ (91) مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ (92) فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ (93) فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ (94) قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ (95) وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (96) قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ (97) فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ (98) وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ (99) رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ (100) فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ (101) فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102)
الصفحة Page 449
(77) اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے
(78) اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا
(79) یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام
(80) نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
(81) بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا
(82) پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا
(83) اور ان ہی کے پیرووں میں ابراہیم تھے
(84) جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے
(85) جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟
(86) کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو؟
(87) بھلا پروردگار عالم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
(88) تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی
(89) اور کہا میں تو بیمار ہوں
(90) تب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے
(91) پھر ابراہیم ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟
(92) تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے نہیں؟
(93) پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا (اور توڑنا) شروع کیا
(94) تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے
(95) انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟
(96) حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے
(97) وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو
(98) غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا
(99) اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا
(100) اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)
(101) تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی
(102) جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا